دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
کلام: مظفر وارثی
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئےظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے
پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پرملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئےظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے
پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پرملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے
آپ محبوب خدا یا مصطفیٰہو گیا دل آپ کا یا مصطفیٰ
وہ حقیقت میں کہا اللہ نےآپ نے جو کچھ کہا یا مصطفیٰ