انتظار حسین کی آواز میں
گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں
کلام: عمیر نجمی · محفل: نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی) · 2026-01-01
«گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
گزشتہ شب ۔۔۔ یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوںمیں اِس اذیّت میں ' ساٹھ پینسٹھ مِنٹ رہا ہوں
تو مجھ کو رونے دے یار! شانے پہ ہاتھ مت رکھمیں گیلے کاغذ کی طرح چُھونے سے پَھٹ رہا ہوں