7 اشعار

گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں

Guzishta shab yun laga ke andar se kat raha hoon

گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں

«گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

گزشتہ شب ۔۔۔ یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوںمیں اِس اذیّت میں ' ساٹھ پینسٹھ مِنٹ رہا ہوں

تو مجھ کو رونے دے یار! شانے پہ ہاتھ مت رکھمیں گیلے کاغذ کی طرح چُھونے سے پَھٹ رہا ہوں

یقین کر ۔۔ سخت' سرد ' بےجان آدمی تھاگلے مِلا تو لگا ستوں سے لِپٹ رہا ہوں

وہ ہجر تھا ' جس نے نم کیا اور بَل نکالےمیں جتنا سیدھا ہوں' اِس کا بالکل الٹ رہا ہوں

سنا تھا : ہر ایک شے حرارت سے پھیلتی ہےتجھ آگ کے پاس ہو کے میں کیوں سمٹ رہا ہوں؟

پڑوس میں پیڑ کٹ رہا ہے' میں کان ڈھانپےدرخت کے فائدوں پہ مضمون رٹ رہا ہوں

اخیر ۔۔۔ بے کار شے تھا میں کارِ عشق سے قبلسمجھ لے' سوکھے ہوئے کنویں کا رہَٹ رہا ہوں

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں