نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
کلام: کیف احمد صدیقی
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سےٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے
سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کرآسیب چیختے رہے خالی مکان سے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سےٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے
سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کرآسیب چیختے رہے خالی مکان سے
یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندےلرزتی دھوپ کی آغوش میں سہمے پرندے
خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندےوہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے