7 اشعار

نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے

Nikli jo aaj tak na kisi ki zubaan se

نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے

«نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سےٹکرا رہی ہے بات وہی میرے کان سے

سوتا رہا میں خوف کی چادر لپیٹ کرآسیب چیختے رہے خالی مکان سے

اکثر میں ایک زہر بجھے تیر کی طرحنکلا ہوں حادثات کی ترچھی کمان سے

پھیلا ہوا ہے حد نظر تک سکوت مرگآواز دے رہا ہے کوئی آسمان سے

تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہرراتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے

ممکن ہے خوب کھل کے ہو گفت و شنید آجوہ بھی خفا ہے ہم بھی ہیں کچھ بد گمان سے

اے کیفؔ جن کو بغض نئی شاعری سے ہےوہ بھی ترے کلام کو پڑھتے ہیں دھیان سے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں