مقرر

پرشانت

@Kaku1701

13
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
پرشانت کی آواز میں

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22

«جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیامیں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا

یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کےنہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai تنویر دانش
  2. 02 اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو Agar tum dil hamara le ke pachhtaye to rehne do مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  3. 03 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل Haseen aisa tha woh ke padte nazar gaya dil اسماعیل راز
  4. 04 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی Phir mile hum un se phir yaari barhi مبارک عظیم آبادی
  5. 05 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye ناشاد کانپوری
  6. 06 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے Tum apne ko khud apne hi jalwon mein chhupa ke کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا Dil kis se lagaaun kahin dilbar nahin milta رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 سانوں نہر والے پل تے بلا کے Sanu nehar wale pul te bula ke پنجابی شعرا