جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
کلام: اسعد بدایونی
جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیامیں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا
یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کےنہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیامیں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا
یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کےنہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا