6 اشعار

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

Jise na meri udasi ka kuchh khayal aaya

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا

«جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیامیں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا

یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کےنہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا

اشارہ کرنے لگے ہیں بھنور کے ہاتھ ہمیںخوشا کہ پھر دل دریا میں اشتعال آیا

مروتوں کے ثمر داغ دار ہونے لگےمحبتوں کے شجر تجھ پہ کیا زوال آیا

حسین شکل کو دیکھا خدا کو یاد کیاکسی گناہ کا دل میں کہاں خیال آیا

خدا بچائے تصوف گزیدہ لوگوں سےکوئی جو شعر بھلا سن لیا تو حال آیا

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں