سید جینٹلمین کی آواز میں
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا
کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا