آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
کلام: عرش صدیقی
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا
کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا
کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائےجیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے
منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنیایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے