10 اشعار

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا

Aankhon mein kahin us ki bhi toofan to nahin tha

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا

«آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا

کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا

کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شامبے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا

تھی آگ بھی تیری ہی طرح ہوش کی دشمنورنہ مجھے جل مرنے کا ارماں تو نہیں تھا

تھا دل بھی کبھی شہر تمنا میں مماثلیہ قریہ ہمیشہ سے بیاباں تو نہیں تھا

کیوں اس نے مجھے عظمت قرآں کی قسم دیوہ رہزن ایمان مسلماں تو نہیں تھا

کیوں مجھ سے توقع تھی اسے جاہ و حشم کیمیں بندۂ نادار سلیماں تو نہیں تھا

طوفان الم کیوں مجھے ساحل پہ اتارامیں شور تلاطم سے ہراساں تو نہیں تھا

شب بھر مری پلکوں میں دمکتے رہے تارےکل رات یہاں جشن چراغاں تو نہیں تھا

کہتے ہیں کہ ہے عرشؔ نگوں پائے نبی پرایسا وہ کوئی صاحب ایماں تو نہیں تھا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں