مقرر

سید جینٹلمین

@SYED32177826624

124
پیش کردہ کلام
96
محفلوں میں شرکت
سید جینٹلمین کی آواز میں

خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا

کلام: امیر مینائی · محفل: ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی · 2026-01-05

«خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیاکارواں آنے سے نرخ حسن ارزاں ہو گیا

کیا ہمارے گور پر ہے احتیاج روشنیچار جگنو جب چمک نکلے چراغاں ہو گیا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی Teri Mehfil Meri Shirkat Nahin Dekhi Jati اسماعیل راز
  2. 02 کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے Kyun kiya karte hain aahein koi hum se poochhe مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کوئی کیوں بے وفا ہے کیا کہئے Koi kyoon be-wafa hai kya kahiye ناشاد کانپوری
  4. 04 دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے Dil mein dhadkan hai na aankhon mein nazar baqi hai کامل شطاری آواز میں دستیاب
  5. 05 سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا! Saada kaghaz pe koi naam kabhi likh lena! باقر مہدی آواز میں دستیاب
  6. 06 مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا Mujhe dhaaye chala ja mujh ko banaye chala ja شاہین عباس آواز میں دستیاب
  7. 07 نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو Nai zameen naya aasman talash karo اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  8. 08 اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے Apni dhun mein behte hue daryao'on ko zakhmaya hai راکب مختار آواز میں دستیاب