سید جینٹلمین کی آواز میں
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
کلام: امیر مینائی · محفل: ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی · 2026-01-05
«خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیاکارواں آنے سے نرخ حسن ارزاں ہو گیا
کیا ہمارے گور پر ہے احتیاج روشنیچار جگنو جب چمک نکلے چراغاں ہو گیا