10 اشعار

خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا

Khat Jo Nikla Bosa-e-Rukhsaar Aasaan Ho Gaya

خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا

«خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیاکارواں آنے سے نرخ حسن ارزاں ہو گیا

کیا ہمارے گور پر ہے احتیاج روشنیچار جگنو جب چمک نکلے چراغاں ہو گیا

سوز غم میں کچھ نہ پوچھو جلد تن کا مجھ سے حالجل کے یہ کاغذ شراروں سے چراغاں ہو گیا

میرے چشم تر سے ہم چشمی کا رکھتا تھا خیالپانی پانی یہ ہوا یا دل کہ باراں ہو گیا

دیکھ قاتل اپنے دیوانے کا جذب شوق قتلجب گلے سے مل گیا خنجر گریباں ہو گیا

او کماندار اس کو کہتے ہیں ہجوم درد و غمتنگئ دل سے سمٹ کر تیر پیکاں ہو گیا

آسیائے چشم لیلیٰ نے یہ پیسا دشت میںبخت مجنوں سرمۂ چشم غزالاں ہو گیا

بوسۂ گیسو پہ اس نے ذبح کر ڈالا مجھےایک کافر کے لئے خون مسلماں ہو گیا

تھا مسلماں جب تلک مشتاق کافر تھا وہ بتیہ ہوا کافر تو وہ ضدی مسلماں ہو گیا

نامۂ اعمال ہے جب تک نہیں ملتا امیرؔمیرے ہاتھ آیا یہ اور میرا گریباں ہو گیا

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں