اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
کلام: امیر مینائی
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہودل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیبدو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہودل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیبدو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیاکارواں آنے سے نرخ حسن ارزاں ہو گیا
کیا ہمارے گور پر ہے احتیاج روشنیچار جگنو جب چمک نکلے چراغاں ہو گیا