ریبل کی آواز میں
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیںمرے ارد گرد آنسو ،مرے آس پاس آہیں
نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیںکہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق کی پناہیں