7 اشعار

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں

Main Ghazal Kahoon To Kaise Ke Juda Hain Meri Raahein

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں

«میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیںمرے ارد گرد آنسو ،مرے آس پاس آہیں

نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیںکہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق کی پناہیں

نہ فریب دے سکے گی ہمیں اب کسی کی چاہتکہ رلا چکی ہیں ہم کو تری کم سخن نگاہیں

کہیں گیس کا دھواں ہے کہیں گولیوں کی بارششبِ عہدِ کم نگاہی تجھے کس طرح سراہیں

کوئی دم کی رات ہے یہ ،کوئی پل کی بات ہے یہنہ رہے گا کوئی قاتل ، نہ رہیں گی قتل گاہیں

میں زمیں کا آدمی ہوں، مجھے کام ہے زمیں سےیہ فلک پہ رہنے والے مجھے چاہیں یا نہ چاہیں

نہ مذاق اڑا سکیں گے مری مفلسی کا جالبیہ بلند بام ایواں ،یہ عظیم بارگاہیں​

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں