میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں
کلام: حبیب جالب
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیںمرے ارد گرد آنسو ،مرے آس پاس آہیں
نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیںکہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق کی پناہیں
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیںمرے ارد گرد آنسو ،مرے آس پاس آہیں
نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیںکہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق کی پناہیں