مقرر · کو ہوسٹ

ثنا سوئٹ

@Sana____Sweet

126
پیش کردہ کلام
97
محفلوں میں شرکت
ثنا سوئٹ کی آواز میں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04

«دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تنہا Tanha ضیاء جالندھری نظم
  2. 02 کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے Kaifiyat kya thi yahan aalam-e-gham se pahle اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  3. 03 وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے Wohi hota hai jo mahboob ko manzoor hota hai صفی اورنگ آبادی غزل
  4. 04 وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے Woh mujhe khaak se baahar nahin jaane dete خورشیدرضوی غزل
  5. 05 زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا Zakhm-e-dil bhi dikha ke dekh liya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی Sar pe rakhun to kabhi surma banaun mitti تنویر دانش
  7. 07 علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا Ilaj-e-dard-e-dil tum se maseeha ho nahin sakta مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  8. 08 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے PaDi hai raat koi gham shanaas bhi nahin hai اسماعیل راز