دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
کلام: اکبر اللہ آبادی
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہےشہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں
جو ناصح مرے آگے بکنے لگامیں کیا کرتا منہ اس کا تکنے لگا
محبت کا تم سے اثر کیا کہوںنظر مل گئی دل دھڑکنے لگا