ثنا سوئٹ کی آواز میں
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18
«کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہہاتھ لگتا ہی نہیں۔ ایسا کوئی راز ہے وہ
ایک صورت ہے جو مٹتی ہے بنا کرتی ہےکبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ