8 اشعار

کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ

Koi Paikar Hai Na Khushboo Hai Na Aawaaz Hai Woh

کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ

«کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہہاتھ لگتا ہی نہیں۔ ایسا کوئی راز ہے وہ

ایک صورت ہے جو مٹتی ہے بنا کرتی ہےکبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ

اس کو دنیا میں میری طرح ضرر کیوں پہنچےمیں زمانے کا مخالف ہوں جہاں ساز ہے وہ

لوگ اس کے ہی اشاروں پہ اڑے پھرتے ہیںبال و پر دیکھے کے ہیں قوتِ پرواز ہے وہ

پتھروں پر بھی جو قدموں کے نشاں ثبت کرےصاحبِ کشف ہے وہ صاحبِ اعجاز ہے وہ

سوچ کر اس سے ملو وہ میرا ہمزاد سہیسحر کر دیتا ہے ذہنوں پہ فزوں ساز ہے وہ

اک کھنڈر جس سے کوئی اب تو گزرتا بھی نہیںاپنے ماضی کے حسیں دور کا غماز ہے وہ

کیوں نہ محسنؔ اسے سینے سے لگائے رکھوںمیرے ہی ٹوٹے ہوئے ساز کی آواز ہے وہ

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں