کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
کلام: محسن زیدی
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہہاتھ لگتا ہی نہیں۔ ایسا کوئی راز ہے وہ
ایک صورت ہے جو مٹتی ہے بنا کرتی ہےکبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہہاتھ لگتا ہی نہیں۔ ایسا کوئی راز ہے وہ
ایک صورت ہے جو مٹتی ہے بنا کرتی ہےکبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ
اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیارستے میں کچھ شجر تو ہیں سایہ نہیں تو کیا
رہتا ہے کوئی شخص مرے دل کے آس پاسمیں نے اسے قریب سے دیکھا نہیں تو کیا
گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گامیں رکھ کے ریڑھی پہ تازہ گلاب بیچوں گا
رہی جو زندگی میری تو شہرِ ظلمت میںچراغ بیچوں گا اور بے حساب بیچوں گا