افراسیاب کی آواز میں
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
کلام: حیدر علی آتش · محفل: صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش · 2026-01-22
«روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا
ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہےہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا