روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
کلام: حیدر علی آتش
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا
ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہےہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا
ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہےہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھیسحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا