12 اشعار

روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا

Roz mawlood se saath apne hua gham paida

روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا

«روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدالالہ ساں داغ اٹھانے کو ہوئے ہم پیدا

ہوں میں وہ نخل کہ ہر شاخ مری آرا ہےہوں میں وہ شاخ کہ ہوں برگ تبردم پیدا

میں جو روتا ہوں مرے زخم جگر ہنستے ہیںشادی و غم سے کیا ہے مجھ توام پیدا

چاہنے والے ہزاروں نئے موجود ہوئےخط نے اس گل کے کیا اور ہی عالم پیدا

درد سر میں ہو کسی کے تو مرے دل میں ہو دردواسطے میرے ہوا ہے غم عالم پیدا

زخم خنداں ہیں بعینہ لب خنداں اپنےشادمانی میں ہے یاں حالت ماتم پیدا

آسماں شوق سے تلواروں کا مینہ برسا دےمہ نو نے ترے ابرو کا کیا خم پیدا

کام اپنا نہ ہوا جب کجیٔ ابرو سےگیسوئے یار ہوئے درہم و برہم پیدا

شبہ ہوتا ہے صدف کا مجھے ہر غنچے پرکہیں موتی نہ کریں قطرۂ شبنم پیدا

چپ رہو دور کرو منہ نہ مرا کھلواؤغافلو زخم زباں کا نہیں مرہم پیدا

قلزم فکر میں ہر چند لگائے غوطےدر مضموں کوئی یاروں سے ہوا کم پیدا

دوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا آتشؔنوش داروں نے کیا یاں اثر سم پیدا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں