نور مائیر کی آواز میں
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی
کلام: مجید امجد · محفل: کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد · 2026-01-24
«کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئیوہ رات گئی وہ بات گئی وہ ریت گئی رت بیت گئی
اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیےاک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئی