6 اشعار

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

Kya sochte ho ab phoolon ki rut beet gai rut beet gai

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی

«کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی» مجید امجد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئیوہ رات گئی وہ بات گئی وہ ریت گئی رت بیت گئی

اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیےاک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئی

تم آ گئے میری باہوں میں کونین کی پینگیں جھول گئیںتم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی رت بیت گئی

پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلےپھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی رت بیت گئی

اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیااک آس ہنسی اک یاد سنا کر گیت گئی رت بیت گئی

یہ لالہ و گل کیا پوچھتے ہو سب لطف نظر کا قصہ ہےرت بیت گئی جب دل سے کسی کی پیت گئی رت بیت گئی

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں