تیرے قول و قرار کی باتیں
کلام: صفی اورنگ آبادی
تیرے قول و قرار کی باتیںکچھ نہیں اعتبار کی باتیں
آپ کا منہ ہے ورنہ ہم سنتےدشمن بد شعار کی باتیں
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
تیرے قول و قرار کی باتیںکچھ نہیں اعتبار کی باتیں
آپ کا منہ ہے ورنہ ہم سنتےدشمن بد شعار کی باتیں