پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے
کلام: خورشیدرضوی
پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہےیہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے
قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزیکبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے
غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی
مہمان شاعر: خورشیدرضوی
پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہےیہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے
قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزیکبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے