نور مائیر کی آواز میں
پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے
کلام: خورشیدرضوی · محفل: غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی · 2026-11-02
پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہےیہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے
قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزیکبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے