درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی
کلام: نصیر احمد ناصر
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہیجاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی
پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگرٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہیجاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی
پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگرٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی
اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہوتھکے لگتے ہو
آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیںفاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے