غزل 6 اشعار

پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے

Palat kar ashk soo-e-chashm-e-tar aata nahin hai

پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہےیہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے

قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزیکبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے

پہاڑوں کی سیاہی سے فزوں دل کی سیاہیوہ حسن اب اپنی آنکھوں کو نظر آتا نہیں ہے

شجر برسوں سے نقش رائیگاں بن کر کھڑے ہیںکوئی موسم ہو شاخوں میں ثمر آتا نہیں ہے

مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کریہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے

کوئی قاتل رواں ہے میری شریانوں میں خورشیدؔجو مجھ کو قتل کرتا ہے نظر آتا نہیں ہے

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں