میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغ
کلام: تنویر دانش
میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغمگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ
ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلےہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
میں چاہتا ہوں کوئی دشت میں جلاے چراغمگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ
ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلےہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ