عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے
کلام: زبیر قلزم
عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
اس محبت کا سبھی کو پہلے آتا ہے مزہپھر جگہ ملتی نہیں آنسو بہانے کے لیے
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
اس محبت کا سبھی کو پہلے آتا ہے مزہپھر جگہ ملتی نہیں آنسو بہانے کے لیے
میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتیتو جو ہوتا تو حیاتی بھی درخشاں ہوتی
ہم نے جانا تو فقط اتنا ہی جانا ہے جنابزندگی بار دگر ہوتی جو آساں ہوتی