امل خان کی آواز میں
جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06
«جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔
جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں
آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیںآنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں