مقرر · کو ہوسٹ

امل خان

@bakhtawarkhan_0

135
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
امل خان کی آواز میں

نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا

کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06

«نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھانہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا

نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماںنہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin تنویر دانش
  2. 02 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے Yeh munasib toh nahin tha ke tamasha karte زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو Wafadari ki soorat mein jafa kaari ka naqsha tu مضطر خیرآبادی
  4. 04 طعنے Ta'ne اسماعیل راز
  5. 05 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے Yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai مبارک عظیم آبادی
  6. 06 خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری Khusha naseeb ke hai dil mein aarzoo teri ناشاد کانپوری
  7. 07 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے Hum vasl mein aise khoye gaye furqat ka zamana bhool gaye کامل شطاری آواز میں دستیاب
  8. 08 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں Gar tujhe rooh-e-rawaan rahat-e-jaan kehte hain رند لکھنوی