کریسنٹ کی آواز میں
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
کلام: تنویر دانش · محفل: ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام · 2026-05-22
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتےہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے
ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغکل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے