تعارف
لوگ ملتے نہیں ہیں لوگوں سے,---
نام بدنام ہے اداسی کا
نام بدنام ہے اداسی کا
منتخب اشعار
ایسے نقوش دیکھ ہمارے نہیں بنا
تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے
کلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہائے گئے
کلام
- 01 تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے Terī galī ke jinheñ bām o dar dikhāye ga'e
- 02 اے گلِ زرد تجھے زرد نہیں ہونا تھا Ae gul-e-zard tujhe zard nahīñ honā thā
- 03 اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی Us ne kuchh der mohabbat kī adākarī kī
- 04 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai
- 05 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin
- 06 جو آنکھ دیکھتاھوں مجھےنم دکھائی دے Jo aankh dekhta hoon mujhe nam dikhayi de