ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
کلام: زبیر قلزم
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھینہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھاتو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھینہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھاتو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخناوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن
چاہتا تھا مجھے لوگ شاعر کہیںاس کی دہلیز سے پھر اٹھائے سخن