مقرر

کریسنٹ

@crescent7765

76
پیش کردہ کلام
72
محفلوں میں شرکت
کریسنٹ کی آواز میں

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن

کلام: زبیر قلزم · محفل: زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام · 2026-05-11

«اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخناوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن

چاہتا تھا مجھے لوگ شاعر کہیںاس کی دہلیز سے پھر اٹھائے سخن

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں کیوں بھول جاؤں Main Kyun Bhool Jaoon عرش ملسیانی نظم
  2. 02 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate تنویر دانش
  3. 03 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 05 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے Aisa nahin ke us ne banaya nahin mujhe شاہین عباس آواز میں دستیاب
  5. 06 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 07 بھوک Bhook جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 08 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں Ek mohabbat ke hawale se mujhe jaante hain جواد شیخ آواز میں دستیاب
  8. 09 اے عشق ہمیں برباد نہ کر Aye ishq hamein barbad na kar اختر شیرانی آواز میں دستیاب