5 اشعار

دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے

Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate

دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتےہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے

ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغکل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے

ہم ہیں یخ بحر کہ خاموش پڑے رہتے ہیںہوتے طغیاں تو کیا کچھ نہ بہا لے جاتےہ

اتنی درکار فقط رقصِ رگِ و قلب رہےپھر سہولت سے ترے چاہنے والے جاتے

ایک مدت سے پڑے ہیں تو پڑے ہیں دانشکاش یوسف کی طرح ہم بھی نکالے جاتے

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں