دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے
کلام: تنویر دانش
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتےہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے
ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغکل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتےہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے
ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغکل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے