مقرر

کریسنٹ

@crescent7765

76
پیش کردہ کلام
72
محفلوں میں شرکت
کریسنٹ کی آواز میں

پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی

کلام: جاوید اختر · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25

«پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگینا آشنا ہر رہگزر نا مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر میں اور مری آوارگی

ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے کہاں برباد تھے بے فکر تھے آزاد تھے مسرور تھے دل شاد تھےوہ چال ایسی چل گیا ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر میں اور مری آوارگی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں کیوں بھول جاؤں Main Kyun Bhool Jaoon عرش ملسیانی نظم
  2. 02 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate تنویر دانش
  3. 03 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  5. 05 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے Aisa nahin ke us ne banaya nahin mujhe شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 06 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 بھوک Bhook جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں Ek mohabbat ke hawale se mujhe jaante hain جواد شیخ آواز میں دستیاب