داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
کلام: باقی صدیقی
داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلےمنزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے
اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھاک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگینا آشنا ہر رہگزر نا مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر میں اور مری آوارگی
ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے کہاں برباد تھے بے فکر تھے آزاد تھے مسرور تھے دل شاد تھےوہ چال ایسی چل گیا ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر میں اور مری آوارگی