17 اشعار

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن

Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن

«اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخناوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن

چاہتا تھا مجھے لوگ شاعر کہیںاس کی دہلیز سے پھر اٹھائے سخن

اس نے آنچل کو لہرایا ہے پھر ضروردیکھیے تو چلی ہے ہوائے سخن

جیسے کوئی حسیں ناز سے بیٹھتیایسے پہلو میں اپنے بٹھائے سخن

کیا بتاؤں میں کیسے خدوخال ہیںاس کی زلفوں پہ سارے لٹائے سخن

اس کی آواز ایسی مرے دوستاہر سخن کر رہا التجائے سخن

جس کسی کی میں امید تھا معذرتکچھ نہیں کر سکا میں سوائے سخن

جب کسی طور بھی یار مانا نہیںباندھ پیروں میں گھنگرو نچائے سخن

جس پہ فتویٰ لگا تھا اسی شعر پرداد دینے کو آئے خدائے سخن

وہ نہیں گنگناتا سخن کوئی بھیدیکھ کر اس کو تو گنگنائے سخن

مفلسی نے کیا حال ایسا مراتنگ آ کر سبھی بیچ کھائے سخن

اس نے پڑھ کر کیے شعر میرے امرشاعروں نے بڑے آزمائے سخن

وصل کی رات تھی اور دیکھو زراصرف بستر پہ میں نے گرائے سخن

ہل کسی کی زمین پر چلایا نہیںمیں نے اپنی زمین پہ اگائے سخن

ایک شاعر سے اس کو محبت ہوئیسارے کمرے میں اس نے لگائے سخن

ساری محفل کی نظریں اسی پر جمیںاس نے پڑھ کر مرے جب سنائے سخن

کوئی قلزم کو کب جانتا تھا یہاںآج جو کچھ بھی ہوں ہے عطائے سخن

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں