افتخار احمد کی آواز میں
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں
کلام: مجید امجد · محفل: کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد · 2026-01-24
«عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیںروح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں
پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھےتلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں