درد فرقت کو کیا کرے کوئی
کلام: صفی اورنگ آبادی
درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئی
دل کی حسرت کو کیا کرے کوئیاس مصیبت کو کیا کرے کوئی
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئی
دل کی حسرت کو کیا کرے کوئیاس مصیبت کو کیا کرے کوئی
ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگ
ہو گیا خون حسرت دیداردے دیا اشک نے شہاب کا رنگ