5 اشعار

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

Ishq kī ṭīseñ jo mizrāb-e-rag-e-jāñ ho ga.iiñ

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

«عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں» مجید امجد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد» میں 24 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیںروح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں

پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھےتلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں

اب لب رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ کیا کہوںبجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں

ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثارہائے وہ آنکھیں جو ضبط غم میں گریاں ہو گئیں

چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاںمشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں

— مجید امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں