افتخار احمد کی آواز میں
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
کلام: حیدر علی آتش · محفل: صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش · 2026-01-22
«مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہےالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے
نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کادہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے