عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
کلام: حیدر علی آتش
عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئے
ناز و نیاز عاشق و معشوق کیا کہوںعجز و غرور شاہ و گدا کچھ نہ پوچھئے
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئے
ناز و نیاز عاشق و معشوق کیا کہوںعجز و غرور شاہ و گدا کچھ نہ پوچھئے
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کاہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا
گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوشبلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہےالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے
نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کادہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے